ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 16:37
علمِ دین کی روشنی سے بچیوں کا مستقبل سنوارنے کی پہل، لکھنؤ میں حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز

حوزہ/ لکھنؤ میں شیعہ بچیوں کی دینی و عصری تعلیم کے لیے حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز کیا گیا ہے، جہاں طالبات کو دینی دروس کے ساتھ انگریزی زبان کی تعلیم بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ادارے میں دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کے لیے رہائش اور طعام کی سہولت بھی موجود ہے، جبکہ دینی شعور، اخلاقی تربیت اور مجموعی شخصیت سازی کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے برابر ہو سکتے ہیں؟” (سورۂ زمر، آیت 9)۔ اسلام میں علم کو انسان کی شخصیت سازی، فکری تربیت اور معاشرے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھنؤ میں شیعہ بچیوں کے لیے “حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ” کے نام سے ایک تعلیمی و دینی ادارے کا آغاز کیا گیا ہے۔

علمِ دین کی روشنی سے بچیوں کا مستقبل سنوارنے کی پہل، لکھنؤ میں حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز

حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ واقع میدان ایل۔ ایچ۔ خان، کشمیری محلہ، لکھنؤ، اترپردیش میں قائم کیا گیا ہے۔ ادارے کا بنیادی مقصد شیعہ بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ کرنا اور انہیں ایک ایسے تعلیمی ماحول کی فراہمی ہے جہاں وہ دینی شعور، اخلاقی تربیت اور جدید تعلیم کے ساتھ اپنے مستقبل کو بہتر انداز میں تشکیل دے سکیں۔

حوزۂ علمیہ میں طالبات کے لیے مختلف دینی دروس کا اہتمام کیا گیا ہے، جس کے ساتھ انگریزی زبان کی تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں انگریزی زبان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبات کو دینی تعلیم کے ساتھ ایسی تعلیمی صلاحیتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ان کی آئندہ تعلیمی اور عملی زندگی میں معاون ثابت ہوں۔

علمِ دین کی روشنی سے بچیوں کا مستقبل سنوارنے کی پہل، لکھنؤ میں حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز

ادارے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں زیرِ تعلیم طالبات کے لیے رہائش اور کھانے کا معقول انتظام موجود ہے۔ اس سہولت کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والی بچیاں بھی حوزۂ علمیہ میں رہ کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں۔ رہائش، خوراک اور تعلیم کو ایک منظم ماحول میں فراہم کرنے کا مقصد والدین اور سرپرستوں کے لیے بھی سہولت پیدا کرنا ہے۔

حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کے قیام کا مقصد صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ بچیوں میں دینی شعور، اخلاقی اقدار، مطالعے کی عادت، نظم و ضبط اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ ادارے میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے طالبات کی مجموعی شخصیت سازی پر توجہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

علمِ دین کی روشنی سے بچیوں کا مستقبل سنوارنے کی پہل، لکھنؤ میں حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز

آج کے دور میں بچیوں کی تعلیم کو معاشرے کی ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں شیعہ بچیوں کے لیے دینی دروس کے ساتھ انگریزی تعلیم اور رہائش و طعام کی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ قائم کرنا تعلیم کے میدان میں ایک نئی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ بچیوں کو ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی دینی شناخت اور اسلامی اقدار کے ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کر سکیں اور مستقبل میں اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنیں۔

علمِ دین کی روشنی سے بچیوں کا مستقبل سنوارنے کی پہل، لکھنؤ میں حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ کا آغاز

پتہ: حوزۂ علمیہ بنت الحسینؑ، میدان ایل۔ ایچ۔ خان، کشمیری محلہ، لکھنؤ، اترپردیش – 226003۔

فون نمبر 6306251954٫7269059786

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha